پنجاب حکومت اپنے ڈرائیونگ لائسنس سسٹم میں ایک بڑا اپ گریڈ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے: وہ مصنوعی ذہانت (AI) سے لیس گاڑیوں کو امتحانی ٹیسٹ کے لیے استعمال کرے گی۔ یہ نیا نظام بدعنوانی کو کم کرنے، شفافیت کو یقینی بنانے، اور درخواست دہندگان کے لیے منصفانہ تشخیص فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

AI گاڑیاں اور ٹیسٹنگ کا طریقہ کار
ٹریفک ہیڈکوارٹرز پنجاب نے صوبائی حکومت کو 32 ایسی گاڑیوں کی خریداری کی تجویز دی ہے جو AI سے لیس ہوں۔
ان گاڑیوں میں سینسرز، کیمرے اور پروسیسنگ یونٹس ہوں گے جو ڈرائیور کی مہارت کا خود بخود تجزیہ کریں گے۔
AI سسٹم ڈرائیور کی غلطیوں کو پہچانے گا اور بغیر کسی انسانی مداخلت کے نتیجہ مرتب کرے گا۔
تجرباتی مراحل اور لاگو کرنا
اب تک دو ٹرائل AI گاڑیاں تیار کی جا چکی ہیں اور ان کے ٹیسٹ کامیابی کے ساتھ مکمل ہوئے ہیں۔
پہلی گاڑیاں لاہور اور دیگر بڑے شہروں میں متعارف کروائی جائیں گی۔
لاگت
32 گاڑیوں کی خریداری پر تخمینہ لگ بھگ 160 ملین روپے خرچ کیا جائے گا۔
ہر گاڑی میں سینسرز، کیمرے اور آلات کی تنصیب پر تقریباً 6 لاکھ روپے خرچ ہوں گے۔
فوائد
شفافیت — AI نظام بغیر انسانی تعصب کے تشخیص کرے گا۔
بدعنوانی میں کمی — سفارش یا سیاسی اثر و رسوخ سے ٹیسٹ کے نتائج پر اثر نہیں پڑے گا۔
صحیح تشخیص — ڈرائیونگ کے دوران ہر حرکات کو درست طور پر ریکارڈ اور تجزیہ کیا جائے گا۔
تیز نتیجہ جات — نتائج خودکار طور پر تیار ہوں گے، جس سے امیدواروں کا انتظار کم ہو جائے گا۔
جدید ٹیکنالوجی کی اپنانے — پنجاب پاکستان کی پہلی صوبوں میں سے ہوگا جو عوامی خدمات میں AI استعمال کر رہا ہے۔
آئندہ اقدامات
DIG ٹریفک پنجاب نے خریداری کا منصوبہ صوبائی حکومت کو منظوری کے لیے بھیج دیا ہے۔
منظوری ملنے کے بعد، جب گاڑیاں پہنچ جائیں گی تو AI ٹیسٹ سسٹم کو باقاعدگی سے شروع کرنے کا ارادہ ہے۔
